رویے خیر کے جس روز سے ہوۓ چوپٹ
بُنَت ہے طبع میں' غفلت کے تانے بانے کی
خیال و خواب میں حرص و ہواۓ دنیا ہے
ہے صفحے صفحے پہ جرم و خطا کا گرد و غبار
بس ایک ذات اسی کی بندھاتی ہے ڈھارس
گمان پرستی کا انجام یہ ہی ہونا تھا
جو بے توجہی اُس ذات سے ہے' ٹھیک نہیں
ریاضؔ ہو متوجہ! اماں میں اس کی آ
— Riaz Majeed\
