ہمہ اطراف' ہمہ زاویہ' رحمت رحمت
مجھ تن آساں کی ثمرور ہو' کروں جو کوشش
نُورِ اذکار ترا چاہۓ لمحہ لمحہ
بچوں اور بوڑھوں کے چہرے ہوں بشاست ساماں
ہوں بہار آشنا، اوراقِ خزانی شکلیں
خلد اسلوب ہوں سب زندگی کی ترجیحات
ہوں کسی واضح قرینے سے یہ اظہار پذیر
تیرے محبوب کا پیغام ہمہ حق جس پر
غیب سے کوئی کرامت کہ پگھل جاۓ یہ برف
کرمِ خاص کہ امت نکل آۓ اس سے
پلٹ آ' ذات کے خاموش خلاؤں کی طرف
میرے اللہ! عطا وقت ہو' توبہ کے لیے
انتشار آسنا اغراض کے حلقے سے نکل
گنگ جذبوں پہ کرم امی لقب کے صدقے
سودعاؤں کی یہی ایک دعا مانگ ریاضؔ
— Riaz Majeed\
