دنیا میں کوئی بھی نہیں تیرے سوا، میرے خدا !
تو نے جو بھیجا ہے نبیؐ نبیوں میں ہے وہ آخری
دل میں یہی گردان ہو' یا رب ھو یا رحمٰن' ہو
کرمک کوئی پتھر میں ہو، ذی روح بحر وبر میں ہو
سیّارگاں کے دائرے ' یہ کہکشاؤں کے کرے
باتیں تری حکومت بھری، فرمان تیرے روشنی
پانی کا قطرہ ہو کوئی، مٹی کا ذرہ ہو کوئی
اے چارۃ بے چارگاں! اے دستگیر بے کساں!
جو خلق کا معتوب ہو' مغضوب ہو' اس پر بھی تُو
عاصی ترا' مجرم ترا' ریاضؔ پر خطا
— Riaz Majeed\
