آپ کے در کے جو بھی گدا ہو گۓ
پھر نہ بھولے مدینے کا وہ راستہ
رکھ دیا اُن کی چوکھٹ پہ سر جس گھڑی
صدقہ مانگا نبی سے جو حسنین کا
تھے میسر مدینے کے شام و سحر
پھر مدینے کے ہونے لگے تذکرے
اُنکے در کے ہی ٹکڑے ہیں کافی انہیں
اُن پہ راضی نیازیؔ خدا ہو گیا
— Unknown
