جہاں دل دھڑک رہا ہے وہاں ٹانک دے مدینہمرے آنسوؤں کے اندر مرے عشق کا سمندر
جو اٹھے تلاطموں سے وہی موج ہے سفینہغم عشق مصطفےؐ میں رہیں غرق صبحیں شامیں
مرا دل بھی اک تجوری مرا درد بھی خرینہمرے دفترِ عمل کا ہو تمام بوجھ ہلکا
کروں اپنی تیرگی میں جو عبادت شبینہمیں گیا تھا داغ لے کر اور اٹھا چراغ لے کر
مرادل ، دلِ منور ، مری چشم ، چشمِ بیناچلوں ان کے پیچھے پیچھے تو ہو دل قدم کے نیچے
مرے مصطفےؐ کی آہٹ مرے ارتقا کا زینہدل معصیت زدہ میں ، انہیں میں بلا تو لایا
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
