رحمت کی بھیک سید ابرار چاہیے
جی چاہتا ہے میں رہوں قدموں میں آپکے
دنیا سے واسطہ ہے نہ عقبیٰ سے کچھ غرض
چارہ گروں سےہو نہ سکا جب علاج غم
گر چاہتے ہو پیارسے دیکھے تمہیں خدا
دنیا کے مال و زر کا سوالی نہیں ہوں میں
پڑھتا رہے درود وہ ذاتِ رسول پر
آقا یہ التجاۓ نیازیؔ ہے دم بدم
— Unknown
