فقیروں کے انداز بھی خسروانہشہا، میری آنکھوں میں آنسو نہیں ہیں
یہ کشت جدائی کا ہے آبیانہزباں پر ہیں تیری محبت کے دعوے
مگر اپنے کردار ہیں باغیانہترے راستوں میں فنا ہونے والے
عبادت بھی کرنے لگے تاجرانہجو کرتے ہیں دنیا کی منصوبہ بندی
وہ ہیں اپنی ہی سازشوں کا نشانہوہ خائف ہیں باطل کی چنگاریوں سے
بناتے تھے جو برق پر آشیانہبد ن ایک چہرے ہیں دو دو ہمارے
سخن نا صحانہ عمل غاصبانہنکلنا ہے آقا ہمیں سب سے آگے
صاحبّ التّاج وہ شاہ معراج وہ شہسوار بُراق و امیر عَلَم
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
