میری آنکھیں مرا شعور حضورؐانکسارِ تمدن و تہذیب
دانش و علم کا غرور حضورؐابتدا کائنات کی تخلیق
انتہا آپ کا ظہور حضورؐآپ کی زندگی کے آنگن میں
کتنی صدیوں کی ہیں قبور حضورؐگنبد سبز کا طواف کریں
میری آواز کے طیور حضورؐمیری نعتوں کا ایک ایک سخن
آپ کے شہر کی کھجور حضورؐمجھ گنہگار کو بھی حاصل ہے
ہجر میں وصل کا سرور حضورؐمیرا دامن نہ بھیگنے پائے
ایسے دنیا کروں عبور حضورؐعمرہ تو کرلیا ہے حج کرلوں
مجھ کو بلوائیے ضرور حضورؐروز محشر جب آپ آئیں گے
شور مچ جائے گا حضورؐ حضورؐآپ نے کر دیا مظفر کو
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
