ملا بے کسوں کو سہارا مدینہ
جو خود دیکھ آۓ یہ بات اُن سے پوچھو
نہیں ہوتیں اک بار سیراب آنکھیں
بھلا وہ سمندر ڈبوۓ گا کیسے
خدا کہتا ہے کیسے کھاؤں نہ قسمیں
ستارے بھی لیتے ہیں انوار جس سے
بنا دیتا ہے پل میں سلمان و بوذر
ہمارے عقیدے کی ہے جان ناصرؔ
— Unknown
