مر کے اپنی ہی اداؤں پہ امر ہو جاؤں
ان کی راہوں پہ مجھےاتنا چلانا یا رب
زندگی نےتوسمندرمیں مجھےپھینک دیا
میرا محبوب ہے وہ راہبرِ کون و مکاں
اس قدرعشق نبی ہو کہ بھلا دوں خود کو
ضرب دوں خود کوجوان سےتولگوں لاتعداد
جو پہنچتی رہے ان تک جو رہےمحوطواف
آرزو اب تو مظفرجو کوئی ہےتویہ ہے
— Muzaffar Warsi\
