ہم درِ آقا پہ سر اپنا جھکا لیتے ہیں
اس کو آنکھوں پہ بٹھاتے ہیں زمانے والے
وقت کی قید نہیں، ہیں یہ کرم کی باتیں
غم کے ماروں کا طبیبو نہ کرو کوئی علاج
پتھرو تم تو ہو پتھر مگر آقا میرے
جب نہیں ملتی کہیں سے بھی سکوں کی دولت
یہ بھی سرکار کی رحمت ہے کرم ہے ان کا
گنبد خضریٰ خدا تجھ کو سلامت رکھے
جب سے دیکھا ہے نیازی وہ ریاض الجنۃ
— Unknown
