ایک لمحے کو مجھے اپنا زمانہ دےدےچھاپ دے اپنے خدوخال مری آنکھوں پر
پھر رہائش کے لیے آئِنہ خانہ دے دےاور کُچھ تُجھ سے نہیں مانگتا میرے آقا
نارسائی کو زیارت کا بہانہ دےدےمَوت جب آئے مجھے کاش ترے شہر میں آئے
خاکِ بطحا سے بھی کہہ دے کہ ٹھکانہ دے دےزندگی ، جنگ کا میدان نظر آتی ہے
میری ہر سانس کو آہنگِ ترانہ دےدےاپنے ہاتھوں ہی پریشان ہے اُمّت تیری
اُس کے اُلجھے ہُوئے حالات کو شانہ دےدےاپنے ماضی سے مظفّؔر کو ندامت تو نہ ہو
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
