عطاۓ کبریا ہے اور میں ہوں
الہیٰ ہے تری شانِ کریمی
چراغاں ہی چراغاں ہرطرف ہے
طلب بارِ دگر مجھ کو کیا ہے
مشامِ جاں معطرہو رہے ہیں
ملائک جس درِ اقدس کو ترسیں
سنہری جالیوں کے سامنے ہوں
تہی دامن، نہیں دامن کسی کا
مدینے کا تصور ہے عبادت
کرم کی اک نظر مجھ پرہو آقا
اشک آنکھوں سے بہتے جارہےہیں
فضا ہے مسجدِ نبوی کی دلکش
مجھے رنج و الم سے خوف کیوں ہو؟
مجھ عاصی کی ہے کیا اوقات یارو!
مدینہ طیبہ کی حاضری کےپہلے دن ء 2015 اپریل 20 کی شام بند چھتریوں کے نیچے ڈھلتی شام کے خوبصورت منظر میں کہے گۓ اشعار
— Dr Ali Akbar Al Azhari\
