ہم مدینے سے اللہ کیوں آگۓ قلب حیراں کی تسکیں وہیں رہ گئی
یاد آتے ہیں ہم کو وہ شام وسحر وہ سکونِ دل جان و روح ونظر
اللہ اللہ وہاں کا درود وسلام اللہ اللہ وہاں کا سجود وقیام
جس جگہ سجدہ ریزی کی لذت ملی جس جگہ ہرقدم ان کی رحمت ملی
پڑھ کے نَصٗرٌمِنَ اللہِ وَفَتٗحٌ قَرِیب ہم رواں جب ہوۓ سوۓ کوۓ حبیب
زندگانی وہیں کاش! ہوتی بسر کاش! بہزادؔ آتے نہ ہم لوٹ کر
— Unknown
