خواب روشن ہو گۓ مہکا بصیرت کا گلاب
گفتگو خوشبو کےلہجےمیں سکھائی آپ نے
خُلق کی خوشبو تمام ادوار میں رچ بس گئی!
زیست کے تپتےہوۓ صحرا میں ہے وجہ سکوں
ہرصدی ہرعہد کے گلشن کواُن کی آرزو!
عطرآسودہ فضائیں کیوں نہ ہوں اس شہر کی
نعت لکھتا ہوں صبیحؔ ان کی عطا کےساۓ میں
— Sabeeh Rehmani\
