اللہ نے پہنچایا سرکار کے قدموں میں
کچھ دیر سلامی کو ٹھرایا مواجہ پر
رد کیسے بھلا ہو گی اب کوئ دعا میری
کچھ لمحے حضوری کے پاۓ تو یہ لگتا ہے
کچھ کہنے سے پہلے ہی پوری ہوئ ہر خواہش
مجھ جیسا تہی داماں کیا نذر کو لے جاتا
سرکار سلامی کو ہر سال طلب کیجۓ
یاد آئ صبیح اپنی ہر ایک خطا مجھ کو
اندھیرے میں بھی اہل دل اجالادیکھ لیتے ہیں
ضرورت کیا ہے آقا کو کہیں بھی آنے جانے کی
خدا ہی جانتا ہے حد ہے کیا نورمحمد ﷺ کی
فقیری جذب ہو جاتی ہے انوار نبوّت میں
در خیر البشر انسانیت کی آخری حد ہے
نظر سے غیب کچھ ہو تو سوال غیب دانی ہے
عجب ہے شوق رسم و راہ دربار شہ بطحیٰ
— Unknown
