ترا نقش قدم ، میرا حرم ہےمرے سجدوں کی ہو کیونکر رسائی
مرے سر سے بہت اونچا حرم ہےابھی تک ہے ترے اشکوں کی خوشبو
حرا تیری جوانی کا حرم ہےچھپا رکھا ہے سینے میں نبیؐ کو
زمیں کا سارا سرما یا حرم ہےعمل کی جیب میں سکے ہیں کتنے
خریدارو بہت مہنگا حرم ہےخدا بھی میرے اندر مصطفےٰ بھی
حرم کے سامنے گویا حرم ہےہوائیں ہاتھ ہیں آنکھیں اجالا
بدن ہے زندگی چہرہ حرم ہےخدا کا نور ہے جسم محمدؐ
خدا کے عرش کا سایا حرم ہےوہ کوئے وقت کا پہلا مسافر
اسی کا مستقل حجرہ حرم ہےضروری ہے طواف اس کا ضروری
حرم ہے مرکز دنیا حرم ہےمحمؐد آ رہے ہیں جا رہے ہیں
صاحبّ التّاج وہ شاہ معراج وہ شہسوار بُراق و امیر عَلَم
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
