تِرے بغیر نہیں کچھ بھی حیثیت میریمِرا جھکا ہوا سر بھی بلند ہے کتنا
تِرا نشان کف پا ہے سلطنت میریبس ایک بوند تِری ، میرے علم کا دریا
بس ایک اسمِ گرامی تِرا لغت میریتِرے خیال میں رہتا ہے گم وجود مِرا
مقام کی نہیں محتاج شہریت میریجو وقت صرف ہوا اپنے لیے وہی گھاٹا
جو سانس خرچ ہو تجھ پر وہی بچت میریجو تجھ کو دیکھ کر آئے میں وہ نظر دیکھوں
جدھر سے تیری صدا آئے وہ جہت میریمیں کیا کروں تِری نسبت پہ ناز ہے مجھ کو
مِرے نیاز کا حصہ ہے تمکنت میریمظفر اُن کے غلاموں کا بھی غلام ہوں میں
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
صاحبّ التّاج وہ شاہ معراج وہ شہسوار بُراق و امیر عَلَم
