خدا کے دیں کا ناخدا ہر ابتداء کی ابتداء
کرے جو کوئی ہمسری کسی کی کیا مجال ہے
کرو گے گر مخالفت غمِ حسینؑ کی یہاں
قضا کے بعد پھر مجھے نئی حیات مل گئی
ہے جس کی فکر کربلا وہ دماغ ہے
اسیرِ شام پر نگاہ کی تو حرؑ بنا دیا
میاں سشتِ نینوا اُلٹنے فوجِ اشقیا
ہدایتِ حسینؑ پر عمل کرو حسینیو
شہیدِ کربلا کا غم جسے بھی ناگوار ہے
سُرور گوہرؔ ہنر ہوا یہ خواب دیکھ کر
— Gohar Jarchvi\
