نہیں خوش بخت محتاجانِ عالم میں کوئی ہم سا
ترا رشتہ بنا شیرازۂ جمعیت خاطر
مراد آئی مرادیں ملنے کی پیاری گھڑی آئی
تِرے جود و کرم کا کوئی اندازہ کرے کیونکر
خدارا مہر کر اے ذَرَّہ پروَر مہرِ نورانی
تمہارے دَر سے جھولی بھر مرادیں بھر کر اُٹھیں گے
فدا اے اُمِّ کلثوم آپ کی تقدیر یاوَر کے
غضب میں دشمنوں کی جان ہے تیغ سر افگن سے
شیاطیں مضمحل ہیں تیرے نامِ پاک کے ڈر سے
منائیں عید جو ذی الحجہ میں تیری شہادت کی
حسنؔ دَر عالمِ پستی سَرِ رِفعت اگر داری
— Hassan Raza Khan Barelvi\
