Kitna Sada Bhi Hai Sacha Bhi Hai Mayar Unka (Naat) | Best Naat Lyrics in Urdu | Naat Lines

ان کی گفتار کا آئینہ ہے کردار ان کاان کو مانگا جو خدا سے تو سبھی کچھ مانگا

کیوں طلب گار ہو اوروں کا طلب گار اُن کاان کے پیکر میں محبت کو ملی ہے تجسیم

پیار کرتا ہے ہر انساں سے ، پرستار اُن کاوہی ، ظلمات کی رگ رگ میں اترتا ہوا نور

میں تو کر لیتا ہوں ہر صبح کو دیدار اُن کااے خدا ! اجر کے اعلان سے پہلے سن لے

مجھ کو جنت سے سوا سایۃ دیوار اُن کاپس ہر حرف وہی جلوہ فگن رہتے ہیں

دل میں اترتے حرف سے مجھ کو ملا پتا ترا

معجزه حسن صوت کا ، زمزمه صدا تراMein Ne Mana Ke Woh Mera Hainaat BY Ahmed Nadeem Qasmiمیں نے مانا کہ وہ میرا ہے تو سب کا بھی وہی

مجھ کو یہ ناز وہ سب کا ہے تو میرا بھی وہیMein Tera Fun Hunhamd BY Ahmed Nadeem Qasmiمیں تیرا فن ہوں یہی فن ترا غرور ہوا

تری انا کا مری ذات سے ظہور ہواDil Ke Hira Mein Apne Khuda Senaat BY Ahmed Nadeem Qasmiدل کے حرا میں اپنے خدا سے تیرے سوا کچھ بھی تو نہ مانگا

— Ahmed Nadeem Qasmi\

Read more soulful naats, hamd and manqbat at Naat Lines.

Yeh Dil Teri Yaadon Se Mahakta Hi Rahega (Naat) | Best Naat Lyrics in Urdu | Naat Lines

تیرا ہے یہ تیرا ہے یہ تیرا ہی رہے گاسرکار سے مانگو تو سہی آل کا صدقا

مِلتا ہے یہ ملتا ہے یہ ملتا ہی رہے گاتیروں کے مُصّلے پہ شبّیر کا سجدہ

ہوتا ہے یہ ہوتا ہے یہ ہوتا ہی رہے گااللہ کے محبوب کے ٹکڑوں پہ یہ عاصی

پلتا ہے یہ پلتا ہے یہ پلتا ہی رہے گاجب تک نہ ملے گی تیری خیرات، یہ دامن

پھیلا ہے یہ پھیلا ہے یہ پھیلا ہی رہے گایہ نامِ محمدؐ ہے کہ رحمت کا سمندر

بہتا ہے یہ بہتا ہے یہ بہتا ہی رہے گاکیا لطف ہو آقا مجھے محشر میں یہ کہہ دیں

میرا ہے یہ میرا ہے یہ میرا ہی رہے گاناکارہ حسنؔ آپ کے دربارِ کرم کا

— Hassan Javed Rawalpindi\

Read more soulful naats, hamd and manqbat at Naat Lines.

Khuld Meri Sirf Uski Tamanah (Naat) – Read Full Naat Sharif Online

خلد مری ، صرف اُس کی تمنا ، صلی اللہ علیہ وسلم
وہ مرا سدرہ وہ مرا ظوبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم

غار حرا میں وہ تنہا تھا ، تنہائی میں بھی یکتا تھا
چار طرف ذکر اقرا تھا ، صلی اللہ علیہ وسلم

قبل اُس کے مسجود تھے کتنے ، فرعون و نمرود تھے کتنے
کتنے بتوں کو اُس نے توڑا صلی اللہ علیہ وسلم

اُس کا جلال ہے بحرو بر میں اُس کا جمال ہے کوہ قمرو میں
اُس کی گرفت میں عالم اشیا ، صلی اللہ علیہ وسلم

وہ جو بظاہر خاک نشیں تھا ، لیکن جو افلاک نشیں تھا
میں ہوں ندیم غلام اُسی کا ، صلی اللہ علیہ وسلم

Iss Qadar Kon Muhabat Ka Silaa Deta Hai (Naat) – Read Full Naat Sharif Online

اس قدر کون محبت کا صلہ دیتا ہے
اُس کا بندہ ہوں جو بندے کو خدا دیتا ہے

جب اترتی ہے مری روح میں عظمت اُس کی
مجھ کو مسجود ملائک کا بنا دیتا ہے

رہنمائی کے یہ تیور ہیں کہ مجھ میں بس کر
وہ مجھے میرے ہی جوہر کا پتا دیتا ہے

اُس کے ارشاد سے مجھ پر مرے اسرار کھلے
کہ وہ ہر لفظ میں آئینہ دیکھا دیتا ہے

ظلمتِ دہر میں جب بھی میں پکاروں اُس کو
وہ میرے قلب کی قندیل جلا دیتا ہے

اُس کی رحمت کی بھلا آخری حد کیا ہوگی
دوست کی طرح جو دشمن کو دعا دیتا ہے

وہی نمٹے گا مری فکر کے سناٹوں سے
بت کدوں کو جو اذانوں سے بسا دیتا ہے

وہی سرسبز کرے گا مرے ویرانوں کو
آندھیوں کو بھی جو کردار صبا دیتا ہے

قدم اٹھتے ہیں مرے ، جانب یثرب جب بھی
اک فرشتہ مجھے شہیر کی ہوا دیتا ہے

فن کی تخلیق کے لمحوں میں تصور اُس کا
روشنی میرے خیالوں میں ملا دیتا ہے

ؔقصر و ایواں سے گزر جاتا ہے چپ چاپ ندیم
در محمدؐ کا جب آئے تو صدا دیتا ہے

Dil Ke Hira Mein Apne Khuda Se (Naat) – Read Full Naat Sharif Online

دل کے حرا میں اپنے خدا سے تیرے سوا کچھ بھی تو نہ مانگا
تو مرا اول تو مرا آخر تو مرا ملجا تو مراماویٰ

بعد خدا اِک تو ہی سہارا گِھر گیا میں تنہا بے چارا
چار طرف تاریخ کا جنگل تاک میں اپنے گھات میں اعدا

کتنے صحیفے میں نے کھنگا لے نصف اندھیرے نصف اُجالے
تو ہی حقیقت تو ہی صداقت باقی سب کچھ صرف ہیولیٰ

یوں تو ہزار سیانے آئے روح کا دشت بسانے آئے
تیری گھٹا صحراؤں پہ امڈی ابر اُن کا دریاؤں پہ برسا

بت خانے حیران کھڑے ہیں بت تیرے قدموں میں پڑے ہیں
تیرے جمال کی زد میں آکر کیسا کیسا پتھر ٹوٹا

تو نے دیا مفہوم نمو کو ‘تو نے حیات کو معنی بخشے
تیرا وجود اثبات خدا کا تو جو نہ ہوتا کچھ بھی نہ ہوتا

Rah Gum Karda Musafir Ka Nigehban Tu Hai (Naat) – Read Full Naat Sharif Online

راه گم کرده مسافر کا نگہباں تو ہے
افق باں پر مثال مِہ تاباں تو ہے

تو جو میرا ہے تو میں بے سروساماں ہی بھلا
لِلّٰهِ الحَمد ، کہ میرا سروساماں تو ہے

مجھ کو کیا علم کہ کس طرح بدلتی ہیں رُتیں
جب مرے دشت خزاں پر بھی گُل افشاں تو ہے

اُس خدا سے مجھے کیسے ہو مجال انکار
جس کے شہ پارہ تخلیق کا عنواں تو ہے

اپنے ہر عزم کی تکمیل پر ایماں ہے مرا
پسِ ہر عزم اگر سلسلہ جنباں تو ہے

تیرے دم سے ہمیں عرفان خداوند ملا
نوع انساں پر خداوند کا احساں تو ہے

یہ بتانے کو کہ با وزن ہے انسان کی ذات
دستِ یزداں نے جو بخشی ہے ، وہ میزاں توہے

خاک میں آج بھی ہے گونج ، ترے قدموں کی
اور افلاک کی وسعت میں خراماں تو ہے

تو نے فاقہ بھی کیا ، اپنا گریباں بھی سِیا
اور پھر ذات الہی کا بھی مہماں تو ہے

تیرا کردار ہے احکام خدا کی تائید
چلتا پھرتا ، نظر آتا ہوا قرآں تو ہے

رنگ کی قید نہ قدغن کوئی نسلوں کی یہاں
جس کے در سب پر کھلے ہیں وہ دبستاں تو ہے

میرے نقاد کو شاید ابھی معلوم نہیں
میرا ایماں ہے مکمل ، مرا ایماں تو ہے

Rooh o Badan Mein, Qol o Amal Mein, Kitne Jameel Hain Aap (Naat) – Read Full Naat Sharif Online

روح و بدن میں، قول و عمل میں کتنے جمیل ہیں آپ
انساں ہے مسجود ملائک ، اس کی دلیل ہیں آپ

آپ کی اک اک بات کلام الٰہی کی تفسیر
قرآں تو اجمال بلیغ ہے ، اور تفصیل ہیں آپ

آپ نوید عیسٰیؑ بھی ہیں ، مژده موسٰیؑ بھی
آپ ایثار و وفا کے وارث ، سبطِ خلیل ہیں آپ

آپ کے ذکر سے کھلتے جائیں ، راز جہانوں کے
قدم قدم پر وجود و عدم میں سب کے کفیل ہیں آپ

مکہ و طائف کی گلیوں میں سنگِ ستم کے ہدف
بدر و حنین کے میدانوں میں بطلِ جلیل ہیں آپ

روزِ ازل ، انسان کو خدا نے اک منشور دیا
اور اِسی منشورِ ہدایت کی تکمیل ہیں آپ

ؔکتنے یقین سے بڑھتا جائے آپ کی سمت ندیم
اُس کو کیا اندیشہ شب ، جس کی قندیل ہیں آپ

Qatra Maange Jo Koi (Naat) – Read Full Naat Sharif Online

قطرہ مانگے جو کوئی ، تو اُسے دریا دے دے
مجھے کچھ اور نہ دے اپنی تمّنا دے دے

میں تو تجھ سے فقط اک نقش کف پا چاہوں
تو جو چاہے تو ،مجھے جنت ماویٰ دے دے

وہ جو آسودگی چاہیں ، انہیں آسودہ کر
بے قراری کی لطافت مجھے تنہا دے دے

میں اس اعزاز کے لائق تو نہیں ہوں لیکن
مجھ کو ہمسائیگئ گنبد خضرا دے دے

یوں تو جب چاہوں میں تیرا رخِ زیبا دیکھوں
عرض یہ ہے کہ مجھے اِذن تماشا دے دے

وہ بھی دیکھیں پَسِ ہر حرف تیری جلوہ گری
سب کو تو میری طرح دیده بینا دے دے

غم تو اس دور کی تقدیر میں لکھے ہیں مگر
مجھ کو ہر غم سے نمٹ لینے کا یارا دے دے

تب سمیٹوں میں ترے ابر کرم کے موتی
میرے دامن کو جو تو وسعت صحرا دے دے

تیری رحمت کا یہ اعجاز نہیں تو کیا ہے
قدم اُٹھیں تو زمانہ مجھے رستا دے دے

ؔجب بھی تھک جائے محبت کی مسافت میں ندیم
تب ترا حسن بڑھے اور سنبھالا دے دے

Ilaj e Gardish e Lail o Nahar Tu Ne Kiya (Naat) – Read Full Naat Sharif Online

علاج گردشِ لیل و نہار تُو نے کیا
غبارِ راہ کو ُچھو کر بہار تُو نے کیا

ہر آدمی کو تشخص ملا ترے دم سے
جو بے شمار تھے ، ان کو شمار تو نے کیا

اٹھا کے قعر مذلت سے ابن آدم کو
وقار تو نے دیا ، باوقار تو نے کیا

کوئی نہ جن کی سنے اُن کی بات تو نے سنی
ملا نہ پیار جنہیں ، اُن سے پیار تو نے کیا

اگر غریب کو بخشے حقوق لامحدود
تو قصرِ شاہ کو بھی بے حصار تو نے کیا

جنہیں گماں تھے بہت ، اپنی سرفرازی کے
بہ یک نگاہ انہیں ، خاکسار تو نے کیا

دل و دماغ کے سب چاند ہو چکے تھے غروب
یہ وہ افق ہے ، جسے تاب دار تو نے کیا

جمال قول و عمل ہو کہ حسن صدق و صفا
خدا نے جو بھی دیا ، پائیدار تو نے کیا

جب اُن کے نطق کو پہنچی ، ترے یقین کی آنچ
جو بے زباں تھے ، انہیں شعلہ بار تو نے کیا

یہ لطف غالبؔ و اقبالؔ تک نہیں محدود
ندیمؔ کو بھی صداقت نگار تو نے کیا

Mein Ne Mana Ke Woh Mera Hai (Naat) – Read Full Naat Sharif Online

میں نے مانا کہ وہ میرا ہے تو سب کا بھی وہی
مجھ کو یہ ناز وہ سب کا ہے تو میرا بھی وہی

سر اُٹھاتا ہوں تو افلاک کو مس کرتا ہے
کہ جو محبوبِ خدا ہے میرا اپنا بھی وہی

مثل اُس کا کوئی آیا ہے ، نہ اب آئے گا
میرا ماضی بھی وہی ہے ، مرا فردا بھی وہی

وہ مری عقل میں ہے، وہ میرے وجدان میں ہے
میری دنیا بھی وہی ہے ، مری عقبٰی بھی وہی

اُس کے احکام بھی کلیوں سی چٹک رکھتے ہیں
میرا آقا بھی وہی ہے ، مرا پیارا بھی وہی

وہ جو برسا ، مری تشکیک کے صحراؤں پر
میرے وہموں کی شب تار میں چمکا بھی وہی

کتنی صدیوں سے ہے وہ گنبد خضرا میں مکیں
اور ہر دور میں ” ہر سمت ، ہو یدا بھی وہی

وہ بشر ہے کہ یہی اُس کا ہے ارشاد ، مگر
اس جہانِ بشریت میں ہے یکتا بھی وہی

گرچہ پرکار مشیت کا وہی دائرہ ہے
لیکن اس دائرے کا مرکزی نقطہ بھی وہی

جس کے انصاف نے پتھر کو بھی بخشی ہے زباں
بے نواؤں کی نواؤں کو سنے گا بھی وہی