دید کا نشہ ملے اِس خام کو
آنکھیں روشن ہوں گی جب دیدار سے
یہ عبادت ہر گھڑی آنکھوں کی ہے
میں پلٹ آیا مدینے سے مگر
آپؐ نے بخشی فقیری زندگی
آپؐ ہی جانِ حزیں کی ہیں متاع
شفقتِ زہراؑ سے نسبت ہے مجھے
— Sobia Fani\
دید کا نشہ ملے اِس خام کو
آنکھیں روشن ہوں گی جب دیدار سے
یہ عبادت ہر گھڑی آنکھوں کی ہے
میں پلٹ آیا مدینے سے مگر
آپؐ نے بخشی فقیری زندگی
آپؐ ہی جانِ حزیں کی ہیں متاع
شفقتِ زہراؑ سے نسبت ہے مجھے
— Sobia Fani\
کوئی سلیقہ ہے آرزو کا
کسی کا احسان کیوں اٹھائیں
تجلیوں کے کفیل تم ہو
تمہی ہو روحِ روانِ ہستی،
شعور و فکر و نظر کے دعوے
نظر نظر رحمت سراپا
عمل میں میرے اساس کیا ہے
عطا کیا مجھ کو دردِ اُلفت
انہی کے در سے خدا ملا ہے
— Unknown
دمک رہی ہے مہک چار سُو مدینے کی
دلوں کا چین بھی ہے روح کا قرار بھی ہے
نبی کی نسبتیں ہیں ساری عظمتوں کا سبب
قدم حضور کے آۓ تو رحمتیں آئیں
طوافِ عظمت کعبہ بھی کررہی ہے وہاں
تڑپتے دل کو قرار آگیا خدا کی قسم
ضرور تم کو بلائیں گے رحمت عالم
نفس نفس میں مدینے کی یاد بس جاۓ
کچھ اور حسن کی بڑھ جاۓ آبرو خالدؔ
— Khalid Mehmood Khalid\
محمد مصطفیٰ کانام لےکر جھوم لیتا ہوں
محمد مصطفیٰ ﷺ کی نعت کہنےکاصلہ دیکھو
مہک اٹھتی ہیں جب راہیں چمک اٹھتی ہیں جب گلیاں
محمد ﷺ کچھ نہیں دیتے جو کہتا ہے ارے ظالم
طفیل پنجتن اور شیخ کامل کےتصرف سے
میں خود اشعارلکھتا ہوں ارے صائم مری توبہ
— Saim Chishti\
ہےروشنی ہی روشنی سیرت حضور ﷺ کی
دنیا میں کون اُس سے بڑا خوش نصیب ہے
عقلِ بشر سے ماوراء ہے ذات مصطفٰی ﷺ
سب انبیاء کی امتیں ہیں معتبر مگر
دنیا میں یوں تو اور بھی اعزاز ہیں بڑے
جوبھی پڑھے درود وہ سنتے ہیں مصطفیٰ ﷺ
گھیرا غموں کی دھوپ نے تو معجزہ ہوا
میں کیسے مان لوں کہ وہ ایمان دار ہے
ساحرؔ کوبھیک دیجیے لکھی ہے جس نے نعت
— Ehsaan Hassan Sahir\
میرے دل کی روشنی ہے مل گئی
تیری نعمتوں سے لگائی جب سے لو
جھوم کر جب پڑھ لیا ان پر درود
جب لیا نامِ مھمدﷺ جھوم کر
وہ شفاعت پاۓ گا آقا جسے
جب ہوا ثاقبؔ تیرے در کا غلام
— Unknown
میں میلی تن میلا میرا کرپا کرو سرکار
در در جانا دُر دُرہونا یہ بھی ہے ایمان
میرے کھویا بیچ بھنور میں کشتی ڈوبی جاۓ
مجھ منگتے کی بات ہی کیا ہے وہ ہیں بڑے لجپال
ان کی عطا کے سب گن گاؤ ان سے ہی فریاد کرو
ان کی یاد ایمان بنا لو خود کو ہی قرآن بنا لو
ان کے کرم کی آس ہے مجھ کو میں تو نہیں مایوس
کچھ تو میری آس بندھا دو تن من ہے بے چین
اس کے لۓ تو سرمایہ پیار مدینے والے کا
— Khalid Mehmood Khalid\
محمد مصطفیٰ کےدرپہ جوآیا نہیں کرتے
اندھیرا گھپ نظرآۓگا ان کو اپنی مرقد میں
حقیقت مصطفیٰ کی ان پہ کھل سکتی نہیں ہرگز
چلےآتے ہیں سائل ہاتھ پھیلاۓ خضوری میں
نہیں کا لفظ آیا ہی نہیں لب پر کبھی ان کے
تمناۓ زیارت میں جوزخم ہجر ہیں دل پر
ریاض ان کو ترقی پر ترقی ملتی رہتی ہے
— Syed Riaz Ud Deen Saharwardi\
میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں،
آنے والی ہے ان کی سواری،
میری جھولی میں کچھ نہیں ہے،
بے نگاہی پہ میری نہ جائیں،
روضۂ پاک پیشِ نظر ہے،
میرے آنسو بہت قیمتی ہیں،
مجھ کو اقبؔال نسبت ہے ان سے،
— Iqbal Azeem\
چراغِ حق جلایا جا رہا ہے
کسی کی آمد آمد ہےیقیناً
پڑھی جو نعت تو آواز آئی
حریمِ ناز میں وہ جلوہ گرہیں
بھلا ایسا سخی کوئی اور ہوگا
میرے آقاؐ وہ قرآنِ مجسم
وہ اقصیٰ میں جماعت انبیاء کی
میرے آقا کا حسنِ خلق دیکھو
جو مدت سے بہم شمشیر زن تھے
جو کچھ دے آشنا اسرار حق سے
یہ بھینی بھینی خوشبو کہہ رہی ہے
ولادتِ مصطفیٰ ایسی ہے ساحرؔ
— Ehsaan Hassan Sahir\