باغ عالم میں یارب یہ کون آگیا
مصطفیٰﷺ مجتبیٰﷺ مرحبا مرحبا
گلشنِ دَہر میں آۓ پیارے نبیﷺ
مصطفیٰﷺ مجتبیٰﷺ مرحبا مرحبا
ہرطرف آمد آمد کی دھومیں مچیں
مصطفیٰﷺ مجتبیٰﷺ مرحبا مرحبا
— Unknown
باغ عالم میں یارب یہ کون آگیا
مصطفیٰﷺ مجتبیٰﷺ مرحبا مرحبا
گلشنِ دَہر میں آۓ پیارے نبیﷺ
مصطفیٰﷺ مجتبیٰﷺ مرحبا مرحبا
ہرطرف آمد آمد کی دھومیں مچیں
مصطفیٰﷺ مجتبیٰﷺ مرحبا مرحبا
— Unknown
خدا کا ذکرکرے ذکر مصطفیٰ نہ کرے
کہا خدا نے شفاعت کی بات محشر میں
مدینے جا کے نکلنا نہ شہر سے باہر
اسیر جس کو بنا کر رکھیں مدینے میں
نبی کے قدموں میں جس دم غلام کا سر ہو
شعور نعت بھیہو اور زباں بھی ہو ادیب
— Adeeb Raye Puri\
عشق میں تیرے کبھی کاش پگھل کر دیکھو
عین ممکن ہے کہ سرکار ﷺ چلے آئیں ابھی
یہی سنتے ہیں کہ ذروں میں چھپے ہیں خورشید
سر میں سودا ہے یہی دیکھوں مدینے کی بہار
سر سے پاؤں تک میں بوں آنکھ شہا دید کے وقت
روتے بلکتے میں گروں قدموں پہ
وجہ تخلیق دو عالم کے اجاگر جلوے
— Unknown
کیوں نہ ہو بہر لمحہ جستجو مدینے کی
جس کو جو بھی ملتا ہے ان کےدر سے ملتا ہے
ہم مدینہ گھوم آۓ جالیوں کو چوم آۓ
غمزدوں کو غم اپنے یاد ہی نہیں رہتے
وہ دیارِ خواجہ ہو یا درِ فرید الدّین
تیرگی میں رہ کربھی روشنی میں رہتا ہے
اس لۓ بساتے ہیں گُل کو وگ دامن میں
— Khalid Mehmood Khalid\
اُن لوگوں کی قسمت کے تابندہ ستارے ہیں
پرنور فضائیں ہیں پر کیف ہوائیں ہیں
نازاں ہیں مقدرپر بیٹھے ہیں سخی در پر
ہوتے ہیں نچھاور واں نذرانے درودوں کے
جو پیارکریں دل سے سرکار کے پیاروں سے
جب یاد کروں اُن کو امداد کو آتے ہیں
سرکار کے صدقے میں ہر چیز ملی ہم کو
بگڑا ہے نہ بگڑے گا کچھ میرا زمانے میں
جو دل سے سجاتے ہیں نعمتوں کی حسیں محفل
جاؤں گا نیازیؔ میں پھر شہر مدینہ میں
— Unknown
خود کو دیکھا تو ترا جود و کرم یاد آیا
صبح پھوٹی تو ترےرُخ کی ضیایاد آئی
کعبہ دیکھا تو تری بت شکنی یاد آئی
ہم نے اعدا کے مظالم کا گلہ چھوڑ دیا
دیکھ کر جھوٹےخداؤں کی سخا کا دستور
روشنی تیر گئی حد نظر تک اعظم
— Muhammad Azam Chishti\
میٹھا مدینہ دور ہے جانا ضرور ہے
راہِ مدینہ کا تو ہر کانٹا بھی پھول ہے
ہوتا ہے سخت امتحاں الفت کی راہ میں
عشق رسول ﷺ دیکھۓ حبشی بلال کا
پرخار راہ پاؤں میں چھالے بھی پڑگۓ
ہمت جواب دے گئی سرکار ﷺ المدد
ہے دھوپ بھی کڑی اور لگی پیاس بھی بڑی
دیوانو! شرماؤ نہ تم دیوانگی میں کہ
کیوں تھک گۓ پلٹ گۓ ہمت گۓ کیوں ہار!
تجھ کو ڈراتی ہیں سفر کی جو صعبتیں
عشاق کو تو ملتی ہے غم میں بھی راحت اور
سرکار ﷺ کا مدینہ یقیناً بلاشبہ
منظر حسین و دلربا ان ﷺ کے دیار کا
دیکھوں گا جا کے گنبد خضرا کی میں بہار
— Unknown
راتیں بھی مدینے کی باتیں بھی مدینے کی
عرصہ ہوا طیبہ کی گلیوں سےوہ گزرے تھے
وہ اپنی نگاہوں سے مستانہ بناتے ہیں
تعریف کے لائق تو الفاظ نہیں ملتے
طیبہ میں ہی بُلوا لو طیبہ میں ہی مدفن ہو
سرکارﷺ بلائیں گے دیوانے یہ جائیں گے
ہر سال کے جانے کا ہے راز یہی مرزاؔ
— Unknown
خوابوں میں مدینے کی فضا دیکھنے والا
نظروں میں رہے جس کے جمالِ شہ ﷺ والا
نبیوں میں وہ بندوں میں، بشر میں جہاں دیکھو
ہر گام پہ آلام و مصائب رہے درپیش
روشن ہے ازل سے جو مرےگوشۃِ دل میں
دُنیا کا مطلب گار رہا ہے نہ رہے گا
پابندئ احکام خداوند یہی ہے
اے موجِ صبا ایک فقط ایک ہی جلوہ
قدموں سےمیں مسرور لپٹ جاؤں، جومل جاۓ
— Masroor Kaifi\
ہو جاتی ہے اب تو ہر مقبول دعا میری
تم پیشِ نظر رہنا سرکار عبادت میں
بس ایک تمنا ہے منزل ہو مدینے کی
یہ راز بتادوں میں اب اپنے طبیبوں کو
مرقد میں میری آکر سرکار نے فرمایا
— Unknown