اک نوربرستا ہے یارو شہرِ مدینہ میں
اللہ کے خزانے سب اُس جا پہ بٹتے ہیں
اُس در کے نظاروں کی کیا بات مرے یارو
جس آقا کے چرچےہیں یارو سارے جہانوں میں
آقا کی شفاعت کا ملتا ہے انہیں مژدہ
رب بھلا تمہارا کرے چھوٹا سا بھلا کر دو
— Unknown
اک نوربرستا ہے یارو شہرِ مدینہ میں
اللہ کے خزانے سب اُس جا پہ بٹتے ہیں
اُس در کے نظاروں کی کیا بات مرے یارو
جس آقا کے چرچےہیں یارو سارے جہانوں میں
آقا کی شفاعت کا ملتا ہے انہیں مژدہ
رب بھلا تمہارا کرے چھوٹا سا بھلا کر دو
— Unknown
کچھ نہ پوچھو کہ کیا کیا مدینے میں ہے
بھیک لینے چلے آئیں شاہ و گدا
ایسا دنیا میں دیکھا نہ ہوگا کہیں
جسکو دیکھیں تو آنکھیں چمکتی رہیں
رنج وغم کے ستاۓ ہوۓ جان لیں
جس کا دنیا میں کوئی بھی اپنا نہیں
نعمتیں دونوں عالم کی ہم کو عطاؔ
— Unknown
چاندتارے ہی کیادیکھتے رہ گۓ
ہم در مصطفیٰ دیکھتے رہ گۓ
پڑھ کے روح الامیں سورۂ والضحیٰ
وہ اممت کی شب،وہ صفِ انبیاء
نیک و بد پر ہوااُن کا یکساں کرم
وہ گۓ عرش تک اورروح الامیں
معجزہ تھا وہ ہجرت میں ان کا سفر
مرحبا شانِ معراجِ ختم رسل
کیا خبر، کس کو کب جامِ کوثر ملا
جب سواری چلی جبرئیل امیں
اہل دانش، محمد پہ تھے حیرتی
ہو کے گم اے نصیر انکے جلووں میں ہم
میں نصیر آج لایا عہ نعت نبی
— Peer Naseer Ud Din Naseer\
میرے سینے میں یاد محمدﷺ میرے ہونٹوں پہ ذکرِ مدینہ
ان کی چشمِ کرم کی عطا ہے میرے سینے میں ان کی ضیاء ہے
میں غلامِ غلامانِ احمد میں سگِ آستانِ محمدﷺ
ہر خطا پر میری چشم پوشی ہر طلب پر عطاؤں کی بارش
مجھ کو طوفاں کی موجوں کا کیا ڈر وہ گزر جاۓ گا رخ بدل کر
دل شکستہ ہے میرا تو کیا غم اس میں رہتے ہیں شاہِ دو عالم
دولتِ عشق سے دل غنی ہے میری قسمت ہے رشکِ سکندرؔ
— Unknown
چاندتارے ہی کیادیکھتے رہ گۓ
ہم در مصطفیٰ دیکھتے رہ گۓ
پڑھ کے روح الامیں سورۂ والضحیٰ
وہ اممت کی شب،وہ صفِ انبیاء
نیک و بد پر ہوااُن کا یکساں کرم
وہ گۓ عرش تک اورروح الامیں
معجزہ تھا وہ ہجرت میں ان کا سفر
مرحبا شانِ معراجِ ختم رسل
کیا خبر، کس کو کب جامِ کوثر ملا
جب سواری چلی جبرئیل امیں
اہل دانش، محمد پہ تھے حیرتی
ہو کے گم اے نصیر انکے جلووں میں ہم
میں نصیر آج لایا عہ نعت نبی
— Ahmed\
میں جس ویلے وی کُر لاواں مدینہ سامنے ہووے
حیاتی داپتا کی اے کدوں مک جاوے رب جانے
تُو قادر ایں میرے مولا دعا منظور کر میری
کسےوی شہر وچ ہووے تیرے محفل میرے آقاﷺ
تُو میری وی میرے مولا ایہہ پوری التجا کردے
— Unknown
روضے دے چوفیرے نے غلاماں دیاں ٹولیاں
دوستا حضورﷺ دیاں محفلاں سجایا کر
کرنی اے ریس کنّے اوہناں دے نصیباں دے
تپ دیاں پتھراں تے لیٹنا دی پیندا اے
یاد وچ آقا ﷺ دی نیازیؔ جہڑے روندے نے
— Abdul Sattar Khan Niazi\
جو محفلیں سجاۓ گا وہ رحمتیں پاۓ گا
نغمے درودوں کے لب پہ سجا لو سارے
اُن کی مرادیں ساری پوری ہو جائیں گی
آقا کی شفاعت کا حقدار وہ ہے بنتا
طوفانوں کا سن کر گھبرا ذرا نہ تو
روضے کا تصور کرکے لب پہ درود سجا
قبر و حشر کا سن کے گھبرا ذرا نہ ثاقبؔ
— Unknown
پسِ مثرگاں حضوری کی دعائیں رقص کرتی ہیں
میں جب اشکوں سے لکھتا ہوں عریضہ ان کی خدمت میں
حصارِ آرزو میں شام ہوتے ہی تڑپتا ہوں
نہا جاتا ہے ہر حرفِ دعا رحمت کی بارش میں
لٹاتے ہیں سخا کی رم جھمیں وہ دونوں ہاتھوں سے
اترتے ہیں فرشتے جام لے کر آبِ کوثر کے
مدینے کے گلی کوچوں میں جب ملتا ہے بن مانگے
— Riaz Hussain Chaudhary\
سرکار کا میلاد مناتے ہی رہیں گے
جلتے ہیں تو جلنے دو ہمیں اُن سے غرض کیا
اُس روضہء پر نور کی ہے شان نرالی
سب کچھ ہمیں ملتا ہے نبی پاک کے صدقے
کرتے ہیں دل وجان سے جو ان سے محبت
دنیا میں کسی شے کی کمی اُن کو نہ ہوگی
جب تک ہے میرے جسم میں یہ جان قلندریؔ
— Unknown