ہواؤ! سرور عالم کے در کی بات کرو
سناؤ مجھ کو نہ سیر جہاں کے افسانے
غم فراق نبی میں جو باوضو ہی رہے
ہٹا دو سرسےمرے دوستو طبیبوں کو
وہ جن کے دم سےبہار حیات قائم ہے
ظہوری دیکھ کےآیا ہوں ذرے بطحیٰ کے
— Muhammad Ali Zahoori\
ہواؤ! سرور عالم کے در کی بات کرو
سناؤ مجھ کو نہ سیر جہاں کے افسانے
غم فراق نبی میں جو باوضو ہی رہے
ہٹا دو سرسےمرے دوستو طبیبوں کو
وہ جن کے دم سےبہار حیات قائم ہے
ظہوری دیکھ کےآیا ہوں ذرے بطحیٰ کے
— Muhammad Ali Zahoori\
جو نام صفِ پاک رسولاں میں جلی ہے
تخلیقِ دو عالم کا سبب ہے یہی دنیا
ہے محوِ طوافِ درِ محبوبؐ الہٰی
سایہ بھی اسے چھو لے تو ہو جاۓ فروزاں
بخشش بھی اسی رہ میں منزل میں اسی پر
خوشبوۓ گلستانِ شہنشاہِ دو عالمؐ
— Khatir Ghaznavi\
حق اللہ حق اللہ حق اللہ حق اللہ
اے مجاہدِ نبی نعت گنگناۓ جا
حق اللہ حق اللہ حق اللہ حق اللہ
پرچم نبی اٹھا لے خدا کا آسرا
حق اللہ حق اللہ حق اللہ حق اللہ
بات کر تو بعد میں پہلے تو سلام کر
حق اللہ حق اللہ حق اللہ حق اللہ
شکر کر خدا کا تو تجھ کو یہ وطن ملا
حق اللہ حق اللہ حق اللہ حق اللہ
جھوٹ بولنا نہیں تم کبھی زبان سے
حق اللہ حق اللہ حق اللہ حق اللہ
اپنے مرشدی کا دل اس طرح سے شاد کر
حق اللہ حق اللہ حق اللہ حق اللہ
آۓ رمضان جب روزوں کا اہتمام کر
حق اللہ حق اللہ حق اللہ حق اللہ
آرزو کی ہے دعا اور رہے سکھی سدا
حق اللہ حق اللہ حق اللہ حق اللہ
— Unknown
محمد ﷺ کا گر اک سہارا نہ ہوتا
وہ صلِ علی اک ہمارے ہوۓ تو
ٹھکانہ نہ ہوتا کہیں عاصیوں کا
اگر آپﷺ کی چشم رحمت نہ ہوتی
کسے نعت کہنے کی توفیق ہوتی
— Unknown
ہجر دہ مکدی نئیں رات مدینے والے
یاد وچ تیری جو اکھیاں نیں وگاۓ اتھرو
تیرے دربار توں اک پل نہ جدا ہواں میں
چہرہ بس آپ دا اک وار نظر آ جاوے
میرے مولا دی رضا اوس تے چھاواں کردی
اک تیری ناں توں سوا ہور نہ پلے کجھ وی
— Muhammad Ali Zahoori\
تو نے ہر شخص کی تقدیرمیں لکھی
تو نے کچلے ہوۓ لوگوں کا شرف لوٹایا
سرحدِ رنگ بعنوانِ اخوت ڈھائی
تو نے ہر ذرے کو سورج سے ہم آہنگ کیا
حسنِ آخر نے کیا حسن کو آخر تجھ پر
سلسلے بند کیے مہر لا دی تو نے
خالد احمد تری نسبت سے ہے خالد احمد
— Khalid Ahmed\
نگاہِ لطف کے امیدوار ہم بھی ہیں
ہمارے دستِ تمنا کی لاج بھی رکھنا
تمہاری اک نگاہِ کرم میں سب کچھ ہے
جو سر پہ رکھنے کو مل جاۓ نعلِ پاک حضور ﷺ
ادھر بھی تو سن اقدس کے دو قدم جلوے
ہماری بگڑی بنی ان کے اختیار میں ہے
حسن ہے جن کی سخاوت کی دھوم عالم میں
— Unknown
فضلِ رب العلیٰ اور کیا چاہیے
دامنِ مصطفیٰ جس کے ہاتھوں میں ہو
ان کے دربار میں حاضری ہوگئی
گنبدِ سبز خوابوں میں رہنے لگا
بھیک کے ساتھ ہی انکے دربار سے
یہ جبیں اور ریاض الجنہ کی زمیں
ہے سکندرؔ ثناء خوانِ شاہِ امم
— Unknown
امیرِ خلد کا اعجاز دیکھوں
سرِ شبرِ نبیؐ الحمد للہ
جونہی پلکوں پہ آنسو جھلملائیں!
اَڑوں خوابوں میں طیبہ کی فضا میں
درخشاں رخ، چمکتی سی جبینیں
میں جب الجھوں کسی الجھن میں راسخ
— Rasikh Irfani\
کس بات کی کمی ہے مولیٰؐ تری گلی میں
جام سفال اس کا تاج شہنشاہی ہے
دیوانگی پہ میری ہنستے ہیں عقل والے
سورج تجلیوں کا ہردم چمک رہا ہے
موت اور حیات میری دونوں ترے لیے ہیں
امجد کو آج تک ہم ادنیٰ سمجھ رہے تھے
— Unknown