نہ ہو آرام جس بیمار کو سارے زمانے سے
تمہارے دَر کے ٹکڑوں سے پڑا پلتا ہے اِک عالم
شب ِاَسرا کے دولھا پر نچھاوَر ہونے والی تھی
کوئی فردوس ہو یا خلد ہو ہم کو غرض مطلب
نہ کیوں اُن کی طرف اللہ سو سو پیار سے دیکھے
تمہارے تو وہ احساں اور یہ نافرمانیاں اپنی
بہارِ خلد صدقے ہو رہی ہے رُوئے عاشق پر
زمیں تھوڑی سی دیدے بہر مدفن اپنے کوچہ میں
پلٹتا ہے جو زائر اُس سے کہتا ہے نصیب اُس کا
بلالو اپنے دَر پر اب تو ہم خانہ بدوشوں کو
نہ پہنچے اُن کے قدموں تک نہ کچھ حسن عمل ہی ہے
— Hassan Raza Khan Barelvi\
