نہیں وہ صدمہ یہ دل کو کس کا خیال رحمت تھپک رہا ہے
لیا نہ ہو جس نے اُن کا صدقہ ملا نہ ہو جس کو اُن کا باڑا
کیا ہے حق نے کریم تم کو اِدھر بھی لِلّٰہ نگاہ کر لو
ہے کس کے گیسوئے مشک بو کی شمیم عنبر فشانیوں پر
یہ کس کے روئے نکو کے جلوے زمانے کو کر رہے ہیں روشن
حسنؔ عجب کیا جو اُن کے رنگِ ملیح کی تہ ہے پیرہن پر
— Hassan Raza Khan Barelvi\
