Bayan Tum Se Karun (Naat) | Best Naat Lyrics in Urdu | Naat Lines

بیاں تم سے کروں کس واسطے میں اپنی حالت کا

خدائی بھر کے مالک ہو خدائی تم سے باہر ہے

نہ کیوں شاہ و گدا پھیلائیں جھولی آستانے پر

تو وہ ہے ظلِ حق نورِ مجسم پرتو قدرت

مرے والی تیرے صدقے میں ہم سے نابکاروں نے

اُنہیں کیا خوف ہو عقبیٰ کا اور کیا فکر دُنیا کی

شرف بخشا انہیں مولیٰ تعالیٰ نے مَلائک پر

مَدینے میں ہزاروں جنتیں ان کو نظر آئیں

رَجا و یاس و اُمید و تمنا دل کے اندر ہیں

نہ عابد ہیں نہ زاہد ہیں مگر ہم تیرے بندے ہیں

رَسُوْلُ اللہ کا جو ہوگیا رب ہوگیا اس کا

بلندیِ فلک کا جب کبھی مجھ کو خیال آیا

بَجُز دِیدار جاسکتی ہے کیونکر تشنگی اُس کی

وہ گیسوئے مبارک کیوں نہ جانِ مشک و عنبر ہوں

عبث ہے اُس کو اہل بیت سے دعویٰ محبت کا

منافق جس قدر چاہیں کریں کوشش گھٹانے کی

ابوجہلِ لعیں عالم ہے جس کے کفر پر شاہد

وہابی کلمہ پڑھ کر کرتے ہیں توہین مولیٰ کی

وہابی تخمِ بوجہلِ لعیں کا ایک پودا ہے

علومِ غیب کا منکر تری تنقیص کا جویاں

جمیلؔ قادری کی یانبی اتنی تمنا ہے

— Jamil Ur Rehman Qadri\