اے مدینے کے تاجدار تجھے
تیرے عُشّاق تیرے دیوانے
جو مدینے سے دور رہتے ہیں
وہ طلب گارِ دید رو رو کر
جن کو دنیا کے غم ستاتے ہیں
غم نصیبوں کے چارہ گر تم کو
دُور دنیا کے رنج و غم کر دو
اُن کو چشمانِ تَر عطا کر دو
جو تِرے عشق میں تڑپتے ہیں
اذنِ طیبہ کی آس میں آقا
تیرے روضے کی جالیوں کے پاس
کتنے دُکھیارے روز آ آ کے
آرزوئے حرم ہے سینے میں
تجھ سے تجھ ہی کو مانگتے ہیں
رُخ سے پردے کو اب اٹھا دیجے
آہ! جو نیکیوں سے ہیں یکسر
آپ عطارؔ کیوں پریشاں ہیں؟
اُن پہ رحمت وہ خاص کرتے ہیں
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
