آہ پورا مرے دِل کا کبھی اَرماں ہوگا
میرے دل پر جو کبھی جلوئہ جاناں ہوگا
جلوئہ مصحفِ رُخ دِل میں جو پنہاں ہوگا
چوندھ جائے گی تری آنکھ بھی مہر محشر
دیکھ مت دیکھ مجھے گرم نظر سے خاوَر
حسن وہ پایا ہے خورشیدِ رسالت تونے
جلوۂ حسن جہاں تاب کا کیا حال کہوں
کون پوچھے گا بھلا روزِ جزا وہ بھی مجھے
چاکِ تقدیر کو کیا سوزَنِ تدبیر سئے
مجھ کو دعویٰ نہیں عصمت کا مگر بے موقع
دلِ دشمن کے لیے تیغِ دو پیکر ہے سخن
عمر ساری تو کٹی لہو میں اپنی نوریؔ
— Mustafa Raza Khan Noori\
