وہ بڑھتا سایۂ رحمت چلا زلف معنبر کا
جو بے پردہ نظر آجائے جلوہ روئے انور کا
شہِ کوثر ترحم تشنۂ دیدار جاتا ہے
ادب گاہیست زیرِ آسماں از عرش نازک تر
ہماری سمت وہ مہر مدینہ مہرباں آیا
چمک سکتا ہے تو چمکے مقابل ان کی طلعت کے
رواں ہوسلسبیل عشق سرور میرے سینے میں
ترا ذرہ وہ ہے جس نے کھلائے ان گنت تارے
بتانا تھا کہ نیچر ان کے زیر پا مسخر ہے
وہ ظاہر کے بھی حاکم ہیں وہ باطن کے بھی سلطاں ہیں
یہ سن لیں سایۂ جسم پیمبر ڈھونڈنے والے
وہ ظل ذاتِ رحماں ہیں نبوت کے مہِ تاباں
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
