چل دیئے تم آنکھ میں اشکوں کا دریا چھوڑ کر
لذت مے لے گیا وہ جام و مینا چھوڑ کر
ہر جگر میں درد اپنا میٹھا میٹھا چھوڑ کر
جامۂ مشکیں لئے عرشِ معلی چھوڑ کر
عالم بالا میں ہر سو مرحبا کی گونج تھی
موتِ عالِم سے بندھی ہے موتِ عالَم بے گماں
متقی بن کر دکھائے اس زمانے میں کوئی
خواب میں آکر دکھائو ہم کو بھی اے جاں کبھی
ایک تم دنیا میں رہ کر تارک دنیا رہے
اس کا اے شاہِ زمن سارا زمانہ ہوگیا
رہنمائے راہِ جنت ہے ترا نقش قدم
مثل گردوں سایۂ دست کرم ہے آج بھی
ہوسکے تو دیکھ اخترؔ باغِ جنت میں اسے
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
