نگاہِ مہر جو اس مہر کی اِدھر ہوجائے
جو قلب تیرہ پہ تیری کبھی نظر ہوجائے
ہماری کشتِ اَمَل میں کبھی تو پھل آئے
کبھی تو ایسا ہو یارب وہ دَر ہو اور یہ سر
ہمارا سر ہو خدایا حبیب کا در ہو
جو سچے دل سے کہے کوئی یَارَسُوْلَ اللہ
مری مصیبتوں کا سلسلہ ابھی کٹ جائے
تڑپ رہے ہیں فراقِ حبیب میں عاشق
ترے غضب سے ہوں غارت یہ دَہر کے شیطاں
جو آپ چاہیں تو ہیزم کو دم میں سبز کریں
خدا کے فضل سے ہر خشک و تر پہ قدرت ہے
عیاں ہے دَبدبہ تیرا سماوا ساوہ سے
جو کاسہ تاج کا لے کر تمہارے در پر آئے
ترے گداؤں کی پاپوش تاجِ سلطاں ہے
جو آپ ہوں مرے پلے پہ پھر مجھے کیا ڈر
جو خوا ب میں کبھی تشریف لائیں جانِ قمر
خدا نے قلبِ حقیقت تمہارے ہاتھ کیا
جو وقتِ وَزْن گراں پلہ ہو گناہوں کا
اندھیری شب میں کرم سے تمہارے اے سروَر
خدا نے غیب تمہارے لیے حضور کیا
وہ آئیں تیرگی ہو دور میرے گھر بھر کی
حجاب اٹھیں جو مرقد سے ان کے روضہ تک
ترے حبیب کے دشمن ہیںاور خود تیرے
کنارِ عاطفتِ ہاوِیہ میں اِک اِک جائے
سراپا آگ کے دریا میں ڈوب جائیں یہ
چمک اُٹھے مری قسمت کا تارا اے نوریؔ
— Mustafa Raza Khan Noori\
