پُل سے اُتارو راہ گزر کو خبر نہ ہو
کانٹا مِرے جگر سے غَمِ رُوزگار کا
فریاد اُمَّتی جو کرے حالِ زار میں
کہتی تھی یہ بُراق سے اُس کی سبک رَوی
فرماتے ہیں یہ دونوں ہیں سردارِ دو جہاں
ایسا گُما دے اُن کی وِلا میں خدا ہمیں
آ دِل! حرم کو روکنے والوں سے چُھپ کے آج
طیر حَرم ہیں یہ کہیں رشتہ بپا نہ ہوں
اے خارِ طیبہ! دیکھ کہ دامن نہ بھیگ جائے
اے شوقِ دل! یہ سجدہ گر اُن کو روا نہیں
اُن کے سِوا رضاؔ کوئی حامی نہیں جہاں
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
