سعادت اب مدینے کی عطا ہو
مدینے کی بہاریں دیکھنے کی
وہ لمحاتِ مَسرَّت آئیں پھر سے
سدا دل عشق میں تڑپا کرے اور
سُنہری جالیوں کے رُوبرو کاش
مرے آقا! برائے پیر و مرشد
جب آقا قبر میں جلوہ نُما ہوں
مَحَبّت مال کی چُھٹتی نہیں ہے
میں ایسا عاشقِ صادِق بنوں کاش
گناھوں کے سبھی اَمراض ہوں دور
کلیجے سے لگاتے ہیں اُسے بھی
پڑوسی خُلد میں اپنا بنا لو
جگہ جنّت میں قدموں میں وہ دینا
مِری قسمت کی جتنی گُتّھیاں ہیں
عَدُو اُس کا بگاڑے گا بھلا کیا
عنایت دین پر ہو استِقامت
خدایا واسِطہ میٹھے نبی کا
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
