میرا گھر غیرتِ خورشیدِ دَرخشاں ہوگا
جو تبسم سے عیاں اِک دُرِ دَنداں ہوگا
کیوں مجھے خوف ہو محشر کا کہ ہاتھوں میں مرے
پلہ عصیاں کا گراں بھی ہو تو کیا خوف مجھے
مجھ سے عاصی کو جو بے داغ چھڑا لائیں گے
کوئی منہ میرا تکے گا کہ یہ وہ عاصی ہے
کوئی اس رحمتِ عالم پہ تصدق ہوگا
ماجرا دیکھ کے ہوگا یہ کسی کو سکتہ
ان کی حیرت پہ کہوں گا کہ تعجب کیا ہے
دَم نکل جائے تمہیں دیکھ کے آسانی سے
زخم پر زخم یہی کھائے یہی قتل بھی ہو
بھیڑیوں کا ہے یہ جنگل نہیں کوئی رَاعی
ظلم پر ظلم سہے اور سزائیں بھگتے
یہی اَندھیر اگر اور بھی کچھ روز رہا
صبحِ روشن کی سیہ بختی سے اب شام ہوئی
تو اگر چاہے ملے خاک میں سلطانِ زماں
ظلمتِ قبر کا کیا خوف مجھے اے نوریؔ
— Mustafa Raza Khan Noori\
