سارے نبیوں کا سروَر مدینے میں ہے
لُطف جنّت سے بڑھ کر مدینے میں ہے
کیا ہوا بھی مُعطَّر مدینے میں ہے
کر کے ہجرت یہاں آگئے مصطَفٰے
جانتے ہو مدینہ ہے کیوں دل پسند
سارے دیوانے بیتاب ہیں اِس لئے
نور کی دیکھو برسات ہے چار سُو
ہجرو فُرقت کے بیمار کو لے چلو
دور رہ کر ہے ویران سی زندگی
ہے مدینے کا رُتبہ بڑا خُلد سے
مالدارو! نہ اِتراؤ تم مال پر
اپنی منزِل کو پالو گے آجاؤ تم
بھول جاؤ گے پیرس کی سب رَونقیں
دشمنو! مت اکیلا سمجھنا مجھے
آؤ عِصیاں شِعارو نہالو یہاں
حشر میں جامِ کوثر کی ہے گر طلب
آؤ آؤ گنہگارو آ جاؤ تم
اے شَفاعت کے اُمّیدوارو! چلو
تم شَفاعت میں شک مت کرو زائرو
چل مدینہ وُہی ہو سکے جسکا دل
چل مدینہ کا دیوانو! مُژدہ سنو
سبز گنبد کا عطارؔ منظر تو دیکھ
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
