مَاہِ طیبہ نَیّرِ بطحا صَلَّی اللہُ عَلَیْکَ وَسَلَّم
تو ہے مَظہَرِ رَبِّ اَجمل ظِل ہیں تیرے سارے مُرسَل
تم ہو پیارے اصل ہماری سارا جہاں ہے فرع تمہاری
تم ہو آقا معرف حق کے جلوے ہو نورِ مطلق کے
تو ہے نائبِ رَبِّ اَکبر پیارے ہر دم تیرے دَر پر
حق نے بنایا ایسا تونگر اَکبر و اَوسط و اَصغر و سروَر
ہر شے میں ہے تیرا جلوہ تجھ سے روشن دین و دنیا
اِیماں تیری عظمت و اُلفت اور تصدیق و جزمِ نسبت
بے شبہ ہے زَینِ طاعت حق یہ کہ ہے عینِ عبادت
تیری ضیا سے عالم چمکا سُبْحَانَ اللہ مَاشَآئَ اللہ
نورِ مجسم تیرے دم سے نوری صدقے روز ہیں پاتے
تو چاہے وہ جو رب چاہے رب چاہے وہ جو تو چاہے
جتنے سلاطیں پہلے آئے سکے ان کے ہوگئے کھوٹے
تاجِ سلطاں بن کر چمکا تیرے نقشِ پا کا جلوہ
تیرے گھر کا بچہ بچہ سارا گھرانا سید والا
کی ہے اَبرِ غم نے چڑھائی ماہِ طیبہ تیری دہائی
غم کی کالی گھٹائیں چھائیں رَنج و اَلم کی بلائیں چھائیں
خارِ غم کیسا چبھتا ہے کیسی خَلِش ہے دِل دُکھتا ہے
رافِع تم ہو دافِعتم ہو نافِعتم ہو شافِع تم ہو
میں ہوں بے بس تو ہی بس ہے میں ہوں بے کس تو ہی کس ہے
سر پر بادل کالے کالے دُودِ عصیاں کے ہیں چھالے
میں ہوں تنہا بن ہے سونا دُزدِ اِیماں سر پر پہنچا
حال ہمارا جیسا زَبوں ہے اور وہ کیسا اور وہ کیوں ہے
ہر ذَرَّہ پر تیری نظر ہے ہر قطرہ کی تجھ کو خبر ہے
عیب سے تم کو پاک کیا ہے غیب کا تم کو علم دیا ہے
تو میرے ایماں کو جلا دے جانِ مسیحا دِل کو جلادے
حد سے بڑھ گئے عصیاں میرے تو دھو دے آبِ رحمت سے
کیسی زبانیں سوکھ گئی ہیں پیاس سے باہر آئی ہوئی ہیں
مہرِ محشر سر پر سروَر پھونکے دے ہے ہم کو یکسر
منہ تک میرے پسینہ پہنچا ڈوبا ڈوبا ڈوبا ڈوبا
آدم سے تا حضرتِ عیسیٰ سب کی خدمت میں ہو آیا
میرے آقا میرے مولا آپ سے سن کر اِنِّیْ لَھَا
روشن ہوگیا اس سے سروَر پیشِ داوَر شافِعِ محشر
وَقتِ وِلادَت تم نہیں بھولے وَقتِ رحلت یاد ہی رکھے
آؤ آؤ میری خبر کو واروں تم پر قلب و جگر کو
میری آنکھوں میرے سر پر میرے دِل پر میرے جگر پر
تیرے نقشِ قدم نے سروَر پتھر موم بنائے یکسر
آپ کا جلوہ ہر جزو کل میں آپ کے رنگ و بو ہر گل میں
کون گیا ہے عرش علا تک کس کی رسائی ذاتِ خدا تک
تم ہو اوَّل تم ہو آخر تم ہو باطن تم ہو ظاہر
بَارَکَ شَرَّفَ مَجَّدَ کَرَّمَ نَوَّرَ قَلْبَکَ اَسْریٰ عَلَّمَ
صاحبِ دولت تم ہی تو ہو قاسمِ نعمت تم ہی تو ہو
اَنْتَ الرَّافِع اَنْتَ النَّافِع اَنْتَ الدَّافِع اَنْتَ الشَّافِع
اَنْتَ الْاَوَّل اَنْتَ الْاٰخِر اَنْتَ الْبَاطِنْ اَنْتَ الظَّاہِر
مَنْ ِلیْ نَاصِرْ مَالِیْ وَالِیْ غَیْرُکَ مَالِیْ فَانْظُرْ حَالِیْ
اَنْتَ الْقَاسِم رَبُّکَ مُعْطِیْتم ہی نے سب کو نعمت دی
اَنْتَ شَفِیْعِیْ اَنْتَ وَکِیْلِیْ اَنْتَ حَبِیْبِیْ اَنْتَ طَبِیْبِیْ
حاضرِ دَر ہے نوریؔٔ مُضطَر آپ کا یہ مورُوثی ثنا گر
— Mustafa Raza Khan Noori\
