سُنّیوں کے دل میں ہے عزّت ’’ وقارُ الدِّین‘‘ کی
آپ عَلّامہ و مفتی اور تھے شیخُ الحدیث
صرف عالِم ہی نہیں تھے آپ عالِم گر بھی تھے
بے عَدَد عُلما نے زانوئے تَلَمُّذ تہ کئے
اِنْ شَآءَ اللہ کام آئے گی مجھے روزِ جزا
اِنْ شَآءَ اللہ وہ بروزِ حشر بخشا جائے گا
وہ مجسَّم عاجِزی تھے اور سراپا سادَگی
چارپائی اور تکیہ اور لوٹا جانَماز
چارپائی پر وہ ہوتے اورہم بھی رُوبرو
آئے دن خدمت میں آکر ہم مسائل پوچھتے
نُکتہ دانی، مُوشِگا فی اور گُل افشانیاں
خَندہ پیشانی تبسُّم رَیز میٹھی گفتگو
ان کو سینے سے لگایا مصطَفٰے نے خواب میں
بندۂ بدکار ہوں ! افسوس میں بیکار ہوں
سب مریدوں کے لئے سارے محبّوں کے لئے
آخِری دیدار کے وقت آنکھ میری رو پڑی
یاالٰہی! واسِطہ تجھ کو رسولِ پاک کا
واسِطہ غوث و رضاکا اے خدائے مصطَفٰے
اُن کے فیضِ خاص سے عطارؔبھی ہے فیضیاب
تُو تَو ہے عطارؔ بداطوار، وہ عالی وقار
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
