Marz e Ishq Ka Beemar (Naat) | Best Naat Lyrics in Urdu | Naat Lines

مَرَضِ عشق کا بیمار بھی کیا ہوتا ہے

کیوں عبث خوف سے دل اپنا ہوا ہوتا ہے

جس کا حامی وہ شہِ ہر دو سرا ہوتا ہے

اُن کا اِرشاد ہے اِرشادِ خداوندِ جہاں

بادشاہانِ جہاں ہوتے ہیں منگتا اُس کے

پلہ نیکی کا اِشارے سے بڑھا دیتے ہیں

سارا عالم ہے رضا جوئے خداوند ِ جہاں

ہم نے یوں شمعِ رِسالت سے لگائی ہے لو

اَز شہا تا بگدایانِ جہاں اِک عالم

ایسی سرکار ہے بھرپور جہاں سے لینے

دونوں ہاتھوں سے لٹاتے ہیں خزانہ لیکن

کردہ ناکردہ اِشارے میں تمہارے ہوجائے

بیکس و بے بس و بے یارو مَددگار جو ہو

ان سے دشمن کی مصیبت نہیں دیکھی جاتی

جگمگا اُٹھتا ہے دل کا مِرے ذَرَّہ ذَرَّہ

آپ محبوب ہیں اللہ کے ایسے محبوب

جس گلی سے تو گزرتا ہے مرے جانِ جناں

عرشِ اَعلیٰ سے کہیں بالا ہے رتبہ اس کا

پیاسو مژدہ ہو کہ وہ ساقیٔ کوثر آئے

آستانے کے گداؤں کے لیے رحمت ہے

کب گل طیبہ کی خوشبو سے بسیں گے دل و جاں

دیکھئے غنچۂ دِل اپنا کھلے گا کب تک

کب بہارِ چمنِ طیبہ نظر آتی ہے

سر بلندی اسے حاصل ہے جناب ِرب میں

دل تپا سوزِ محبت سے کہ سب میل چھٹے

کب مٹانے سے کسی کے خطِ تقدیر مٹے

محو اِثبات کی ہاں آپ نے قدرت پائی

تیرا دِیدار مُیَسَّر ہو جسے نورِ خدا

وہ نہیں حشر میں جو ہوگا شہا بے پردہ

تیرا جلوہ نہیں اللہ کا جلوہ ہے وہ

تو ہے آئینۂ ذاتِ اَحدِی اے پیارے

دَاغِ دِل میں جو مزہ پایا ہے نوریؔ تم نے

— Mustafa Raza Khan Noori\