Ba Khat e Noor Iss Dar Par (Naat) | Best Naat Lyrics in Urdu | Naat Lines

بخطِّ نور اس دَر پر لکھا ہے

سرِ خیرہ جو اب دَر پر جھکا ہے

مقابل دَر کے یوں کعبہ بنا ہے

درِ والا پہ اِک میلا لگا ہے

یہاں سے کب کوئی خالی پھرا ہے

گدا تو ہے گدا جو بادشا ہے

جسے جو کچھ ملا جس سے ملا ہے

اسی سرکار کا منگتا ہے عالم

یہاں سے بھیک پاتے ہیں سلاطیں

اسی دَر سے پلے گا پل رہا ہے

شب معراج سے ظاہر ہوا ہے

خدائی کو خدا نے جو دیا ہے

خدائے پاک تو گھر دَر سے ہے پاک

یہاں وہ باخدا ہے جلوہ فرما

شہِ عرش آستاں اللہ اللہ

یہ وہ محبوبِ حق ہے جس کی رُویت

یَدُ اللہ جس کا د ستِ پاک ٹھہرا

رَمی جس کی رَمی ٹھہری خدا کی

قسم قرآں میں جس کی رہ گزر کی

وہی مطلوب جس کا ہر ہر اَنداز

ہوا سے پاک جس کی ذاتِ قدسی

نہیں کہتے ہوائے نفس سے کچھ

چمک سے جن کی روشن ہیں دو عالم

وہ جلوہ جس سے حق ہے آشکارا

وہ یکتا آئینہ ذاتِ اَحد کا

وہ پیارا جس پہ رب ہے ایسا پیارا

وہ جس کا شہر بھی ہے ایسا پیارا

جہاں ہے بے ٹھکانوں کا ٹھکانہ

دوا دُکھ دَرد کی ہے خاک جس کی

کرم فرمائیے اے سروَرِ دِیں

خزانے اپنے دے کے تم کو حق نے

جسے جو چاہو جتنا چاہو دو تم

دو عالم بھیک لیتے ہیں یہاں سے

نہ مانگیں تم سے ہم تو کس سے مانگیں

میں دَر دَر کیوں پھروں دُردُر سنوں کیوں

عطا فرماتے ہو بے مانگے سب کچھ

تمہارا ملنا ملنا ہے خدا کا

عطا فرمائیے اپنے کرم سے

یہی سرکارِ فیض آثار ہے وہ

یہیں سے پاتے ہیں سب اپنے مطلب

بہ ہر لحظہ بہ ہر ساعت بہ ہر دم

نہیں تقسیم میں تفریق کچھ بھی

یہ وہ در ہے ہوا ہے وہ بھی حاضر

سلامِ رُوستائی بے غرض نیست

عقیدے میں تو اس کے شرک ہے یہ

جلا اِیمان سے ہوتی ہے دل پر

نہیں شیشہ نہیں وہ دل تو جس پر

نہ ٹھہرے مَطرِ حق کی بوند جس پر

بہت بد فرقے پیدا ہوچکے ہیں

جو مذہب اَہلِ سنت کے علاوہ

جماعت پر یدِ رحمت ہے حق کا

ہے ان میں ایک فرقہ سب سے بدتر

نہیں جس سے کوئی موجود خالی

ہر اک اس شرک سے ٹھہرا جو ُمشرک

صحابہ خود نبی بلکہ خود اللہ

جسے بدعت کی لت اتنی پڑی ہے

مئے بدعت سے ہے سرشار ایسا

تھی اتنی تند مئے جس کے نشے میں

یہ خود ہے بدعتی مشرک یقینا

ہیں اس کے شرک و بدعت اہلے گہلے

یہ ایسا اس کا حکمِ شرک و بدعت

ہے سنی آئینہ اس نے جو دیکھا

اسے مَنِ ا بْتَدَعَ تو رہ گیا یاد

خود اپنے فتوؤں سے ہے آپ مشرک

نہیں ہے باپ ہی مشرک کہ جد بھی

کھلی تَنْقِیصیں محبوبانِ حق کی

کھلی توہین کی ہے خود خدا کی

نہ ممکن ہی کہا بلکہ یہاں تک

نہ بس اِک کذب پر ہی اس نے بس کی

تمہیں حق نے دئے ہیں وہ فضائل

مماثل ہو نہیں سکتا تمہارا

تمہاری بے مثالی اس سے ظاہر

محب کیا چاہتا ہے مثلِ محبوب

مگر یہ فرقہ محبوبِ خدا کے

نہ ممکن ہی کہ چھ مثل واقع

یونہی ختم نبوت کا ہے مانع

مسلمانوں کے ڈر سے لفظ مانے

جو معنی ان کے ہیں ماثور اب تک

کہاں تک ظلم میں اس کے گناؤں

نفی جس علم کی سرکار سے کی

محیطِ اَرض کا شیطان کو جب

شریک اِبلیس کو کرتا ہے حق کا

وہ کچھ مانے بہر صورت وہ خود ہی

مَجانین و صبی حیواں بہائم

نبی غیرِ نبی میں فرق پوچھا

اُنہیں جیسا بتایا علمِ اَقدس

نفی شہ سے بوجہ شرک کی بھی

جو قسمت میں لکھا تھا کیوں نہ ہوتا

کریں لاکھوں جتن ہوتا ہے وہ ہی

خیالِ خر میں اِستغراق سے بد

اگر اس کو کوئی اتنا کہے گا

بکھر جائیں گے اس پر کیسا کیسا

بیانِ عیبِ دُشمن نعت ہی ہے

ضیائے کعبہ سے روشن ہیں آنکھیں

ہماری حاضری نُوْرٌ عَلٰی نُوْر

ضیائے روضہ کا عالم کہوں کیا

یہاں محبوبِ رب ہے جلوہ آرا

ہے یہ تو وصل سے سرسبز دل شاد

مہ و خور بھیک پاتے ہیں یہاں سے

فضائے طیبہ کے قربان جاؤں

خفیف و خوش مزا بے مثل پانی

زمینِ پاک وہ جس کو خدا نے

ہمیں تو طیبہ ہے جنت سے بڑھ کر

قدم ہم جیسوں کے اس سرزمیں پر

وطن کی ہر سہانی صبح نوریؔ

— Mustafa Raza Khan Noori\