شاہِ بطحا کاماہ پارہ ہے، واہ کیابات غوثِ اعظم کی
یہ توسب اولیا کا افسرہے، ابنِ زَہرا ہے ابنِ حیدر ہے
غوثِ اعظم ہیں شاہِ جِیلانی،پیرِلاثانی، قُطبِ رَبّانی
شَہرِ بغداد مجھ کو ہے پیارا، خوب دلکش وہاں کانَظّارہ
مل گیا مجھ کو غوث کادامن،فضلِ ربِّ کریم سے روشن
جب کہ دنیا میں مُرشِدی آئے،بَطْنِ مادرسے ہی ولی آئے
میرے مرشدنے’’ لاتخف‘‘کہہ کر، دُور سب کردیا ہے خوف اور ڈر
غوث رنج و الم مٹاتے ہیں ،اُس کوسینے سے بھی لگاتے ہیں
غوث پیروں کے پیر ہیں بیشک،اورروشن ضمیرہیں بے شک
کیوں نہ جاؤں میں غوث پرواری، آفتیں دورہوگئیں ساری
اُس کو من کی مُراد ملتی ہے،اُس کی بگڑی ضَروربنتی ہے
جی اُٹھے مُردے حق کی قدرت سے،حکمِ والائے ربِّ رحمت سے
درد و آلام جب رُلاتے ہیں ،غوثِ اعظم مددکوآتے ہیں
ان کا دشمن خداکاہے مَقہُور،اس کی رحمت سے ہوگیاوہ دُور
غوث پر توقدم نبی کاہے،ان کے زیرِقدم ولی سارے
ہم کو’’گیارہ ‘‘ کاہے عددپیارا،ان کی تاریخِ عُرس ہے گیارہ
خوب صورت ہیں گنبد اور مِینار، ان پہ رحمت برستی ہے عطارؔ
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
