نقش دل پر بٹھا گۓ طاہر
پھررہا تھا میں در بدر اب تک
پارہ پارہ دل شکستہ تھا
در پر جو آیا طالب عرفاں
ان کے در سے ہوا جو وابستہ
گلشن غوث ہے در طاہر
جو چلا نقش پاۓ طاہر پر
کرو قائم نماز اے لوگو
رکھ دیا اپنے قلم کو صابر نے
— Sabir\
نقش دل پر بٹھا گۓ طاہر
پھررہا تھا میں در بدر اب تک
پارہ پارہ دل شکستہ تھا
در پر جو آیا طالب عرفاں
ان کے در سے ہوا جو وابستہ
گلشن غوث ہے در طاہر
جو چلا نقش پاۓ طاہر پر
کرو قائم نماز اے لوگو
رکھ دیا اپنے قلم کو صابر نے
— Sabir\