چراغ اِسم محمّد لحد میں رکھّا گیامجال ہے کہ ہوئی ہو کہیں کمی بیشی
وہ نُور معجزہ ء صد بہ صد میں رکھّا گیاکہا گیا کہ پُکارو تو کہہ کے 'اُنظُرنا
جو بے اَدب تھے انہیں ایک حد میں رکھّا گیاوہ جس نے آدم و حوّا کو بنتے دیکھا تھا
اُسے شروع سے حُسن ابد میں رکھّا گیاکچھ اور سہل ہُوئیں اگلی منزلیں مجھ پر
وظیفہ ء رُخ آقا سند رکھّا گیامجھے سُنائی گئی یوں شفاعتوں کی نوید
منافقوں کو عذابِ حسد میں رکھّا گیاعطا ہُوا تھا وہیں سے مزاج رُفت گَری
— Akhtar Usmani\
Read more soulful naats, hamd and manqbat at Naat Lines.
