دست طلب کے رکھوں بند ڈھیلےٗ پیروں میں زنجیرِ تنگ پہنوںشفّاف ایسی طبیعت ہے اپنی میلا بدن بھی گوارا نہیں
کپڑے تو کپڑے ہیں میں روح پر بھی نکھرا ہوا انگ انگ پہنوںگھٹتے ہوئے فاصلوں کی مدد سے بڑھتا رہے میرا شوق سفر
پہنائیں جب ان کے رستے کے جھونکے خوش ہو کے احرام سنگ پہنوںسب سے بڑا نفس دشمن ہے میرا سر کوبی نفس کے واسطے
تنہائیوں میں بھی اکثر میں آقاؐ پوشاکِ میدان جنگ پہنوںباہر نکل آئے اندر کا چہرہ تو آئنہ مجھ پہ ہنسنے لگے
کر دو مرے دیدہ دل بھی صیقل کب تک گناہوں کا زنگ پہنوںحسرت سے لعل و گہر مجھ کو دیکھیں رعنائیاں رشک مجھ پر کریں
تقوے میں صبر و قناعت پرو کر میں مصطفؐےٰ کا ملنگ پہنوںمارے ہیں کتنے ملامت کے پتھر پھر بھی نہ آقاؐ کے لائق ہوا
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
صاحبّ التّاج وہ شاہ معراج وہ شہسوار بُراق و امیر عَلَم
