دَرْد اپنا دے اس قدر یارب
میری آنکھوں کو دے وہ بینائی
وِرد میرا ہو تیرا کلمۂ پاک
شجرِ نعت دِل میں بویا ہے
تیرے محبوب کا میں واصف ہوں
بطفیلِ رسولِ ہر دو سرا
تیری رحمت جو میرے ساتھ رہے
ایسا مجھ کو ُگما دے اُلفت میں
دیکھنے کے لیے مجھے ترسے
جان نکلے تو اس طرح نکلے
قبر میں اور جاں کنی کے وقت
سختیوں سے مجھے بچا لینا
ایسی دے میرے دل کو اپنی تلاش
آستانے کا اپنے رکھ منگتا
میں نے پھیلایا دامن مقصود
دِلِ وِیراں کو نور سے بھردے
عرش اس کو کہوں کہ بیت اللہ
نام کو تیرے رٹتے رٹتے روز
میرے سینے کو اپنی اُلفت سے
ذَرَّہ ذَرَّہ سے آشکارا ہے
تیرا جلوہ کہاں نہیں موجود
نَحْنُ اَقْرَب سے ُکھل گیا کہ تو ہے
تیری تحمید کرتے ہیں ہر دم
کرتے ہیں صبح و شام لیل و نہار
میرے جرم و قصور پر تو نہ جا
نہ ٹھکانہ مرا لگے گا کہیں
اپنے محبوب کا مجھے واصف
اُڑ کے پہنچوں میں شہر طیبہ میں
یوں اُٹھوں قبر سے دَرَخشاں رُو
میرے پیارے تیرے حبیب جنہیں
اُن کا اور اُن کی آل کا صدقہ
میری اولاد اور مری بہنیں
جملہ اَحباب اور سب اَہل سنن
دشمنوں پر طفیل غوثِ وَریٰ
میرے اُستاد تھے حسن مرحوم
اِتحاد ایسا سنیوں میں دے
ذِکر محبوب کی یہ محفل ہے
مرد و عورت گدا غریب و امیر
نیک کاموں کی ان کو دے توفیق
جو ہیں کم رِزْق مفلس و محتاج
لاوَلد کی مراد پوری کر
بانیِ مجلسِ مبارک کا
جو کہ جلتے ہیں ذکر مولد سے
نیچری و وہابی و رفاض
اور جتنے ہیں دشمن اِسلام
مسخ کردے کہ اُن کی ہوجائے
دے یہ توفیق تیرے اَعدا سے
زیر ہر دَم رہیں تیرے دشمن
قادِری ہے جمیلؔ اے غفار
— Jamil Ur Rehman Qadri\
