کاش! دشتِ طیبہ میں ،میں بھٹک کے مرجاتا
کاش! جانبِ طیبہ آہ! یوں اگر جاتا
کاش! گنبدِ خَضرا پر نگاہ پڑتے ہی
زاہدِینِ دنیا بھی رشک کرتے عاصی پر
یانبیِّ رحمت یہ میرے دل کی حسرت ہے
کاش! ایسا مل جاتا عشق نام سنتے ہی
دل سے الفتِ دنیا بالیقیں نکل جاتی
جذبۂ غزالی دو وَلْوَلہ بلالی دو
زائرِ مدینہ تُو چل رہا ہے ہنس ہنس کر
بے دھڑک مدینے میں داخِلہ ہوا تیرا
روتے روتے مرجاتا وقتِ رخصتِ طیبہ
کاش! فرقتِ طیبہ سے میں رہتا رنجیدہ
کام میرا بن جاتا جو تری نظر ہوتی
لازمی ہے ہر صورت چھوڑنا گناہوں کا
غیر کے تُو فیشن کو چھوڑ دے مِرے بھائی
بے عدد غلام آقا خُلد جا رہے ہیں کاش!
یاخدا! مبلِّغ میں سنَّتوں کا ہوتا کاش!
ان کا آگیا عطارؔ اُن کا آگیا عطارؔ
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
