دو عالم گونجتے ہیں نعرۂ اَللّٰہُ اَکْبَر سے
کروں یادِ نبی میں ایسے نالے دِیدۂ تر سے
خدا نے نورِ مولیٰ سے کیا مخلوق کو پیدا
وہ صورت جس سے حق کا خاص جلوہ آشکارا ہے
کچھ ایسا جوش پر ہے مَنْ رَّاٰنِیْ قَدْ رَاَ الْحَقَّ
نہیں ہے اور نہ ہوسکتا ہے بعد ان کے نبی کوئی
جہاں میں آکے ایسا خنجرِ توحید چمکایا
مٹی تاریکیٔ کفر و ضلالت روشنی پھیلی
بنایا حق تعالیٰ نے اُنہیں کونین کا مالک
کرم سے ان کے لاکھوں بن گئے بگڑے ہوئے دم میں
مجھے ایسا گما دے اپنی ذاتِ پاک میں مولیٰ
مَدینہ کیا ہے اور اس میں بہاریں کیسی کیسی ہیں
ہمیں طیبہ میں پہنچا کر گرادے یاخدا ایسا
الٰہی راہِ طیبہ میں کچھ ایسی بے خودی چھائے
چھپائیں گے سیہ کاروں کو وہ دامانِ رحمت میں
شہِ کوثر زبانیں پیاس سے باہر نکل آئیں
اُتارا جب نبی کو قبرِ اَنور میں تو آتی تھی
صحابہ جب جنازہ حضرتِ صدیق کا لائے
جمیلِؔ قادری جس دَم سنائے نعت محشر میں
— Jamil Ur Rehman Qadri\
