کوہِ فاراں پہ خورشیدِ غار حرا، جب ہوا جلوہ گر دیکھتے دیکھتے
آرزوۓ خلیل آج پوری ہوئی، کائناتِ دل و روح نوری ہوئی
زیست صحرا تھی صحرا سے گلشن ہوئی، شمع عرفان وایقاں کی روشن ہوئی
روحِ انساں سقیم اور بیمار تھی، رہنِ اوہام تھی، وقفِ آزار تھی
دیکھتے دیکھتے انقلاب آگیا، پھول مہکے چمن پر شباب آگیا
شرق سے غرب تک شور برپا ہوا، ایک امی لقب شہر علم آگیا
جس طرف سے بھی گزرے شہِ حشم جس نے بھی سرور دیںؐ کے چومے قدم
واپس آۓ تو بستر ابھی گرم تھا اور زنجیرِ درمیں تھی جنبش ابھی
جس کو کہتے ہیں سب لوگ شہرِ نبیؐ، روکشِ خلد ہے جس کی ایک اک گلی
کملی والے کا یزدانی احسان ہے ابنِ آدم پہ بارانِ فیضان ہے
— Yazdani Jalandhari\
