کیا سَبز سَبز گُنبد کا خُوب ہے نظارہ
انوار یاں چَھما چَھم برسائیں اَبْر پَیْہَم
پیشِ نظر ہو ہر دم بس سبز سبز گنبد
سائے میں سَبز گنبد کے توڑنے بھی دو دم
غوثُ الوریٰ کا صدقہ ایسا دے اپنا غم بس
سینہ بنے مدینہ دل میں بسے مدینہ
مت چھوڑئیے مجھے اب دُنیا کی ٹھوکروں پر
سرکار! حُبِّ دُنیا دِل سے مِرے نِکالو
تڑپا کروں سَدا مَیں اے کاش! تیرے غم میں
گِریہ کُناں ہیں یارب! شوقِ مدینہ میں جو
رَنج واَلَم کے بَادَل سارے ہی چھٹ گئے ہیں
ٹھکرا دے جس کو دنیا اُس کو گلے لگانا
طَیبہ میں اَب تو مُجھ کو دو گز زمین دیدو
دے دو بقیع دے دو،مجھ کو بقیع دے دو
ہیں مُصطفٰے مددگار اے دُشمنو خبردار!
ہے دُشمنوں نے گھیر ا لِلّٰہِ کوئی پَھیرا
کردے عَدُو کو غارت،حاسِد کو دے ہِدایت
ظالِم ڈرا رہے ہیں ، آنکھیں دِکھا رہے ہیں
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
